میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
اپنے آقا کو میں نذر کیا دوں
اب تو آنکھوں میں بھی کچھ نہیں ہے
ورنہ قدموں میں آنکھیں بچھا دوں
میرے آنسو بہت قیمتی ہیں
ان سے وابستہ ہیں ان کی یادیں
ان کی منزل ہے خاکِ مدینہ
یہ گوہر یو ہی کیسے لٹا دوں
بے نگاہی پہ میری نا جائیں
دیداور میرے نزدیک آئیں
میں یہی سے مدینہ دیکھا دوں
دیکھنے کا قرینہ بتا دوں
میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم