روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
یہ کرم ہے حضور کا ہم پہ، آنے والے عذاب ٹلتے ہیں
اپنی اوقات صرف اتنی ہے کچھ نہیں بات صرف اتنی ہے
کل بھی ٹکڑوں پہ ان کے پلتے تھے اب بھی ٹکڑوں پہ ان کے پلتے ہیں
وہ سمجھتے ہیں بولیاں سب کی وہی بھرتے ہیں جھولیاں سب کی
آو بازار مصطفیﷺ کو چلیں کھوٹے سکے وہیں پہ چلتے ہیں،
اب کوئی کیا ہمیں کرائے گا ہر سہارا گلے لگائے گا
ہم نے خود کو گرا دیا ہے وہاں، گرنے والے جہاں سنبھتے ہیں
دل کی حسرت وہ پوری فرمائیں اس طرح طیبہ مجھ کو بلوائیں
میرے مرشد پہ مجھ سے فرمائیں آو طیبہ نگر کو چلتے ہیں
ان کے دربار کے اجالے کی فعتیں ہیں بے نہاں خالد
یہ اجالے کبھی نہ سمٹیں گے یہ وہ سورج نہیں جو ڈھلتے ہیں
روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا