نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہیں اُس کو نواز دیں یہ درِحبیبﷺ کی بات ہے
جسے چاہا دَر پہ بُلالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ خدا نہیں ، بخدا نہیں، مگر وہ خدا سے جُدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ کیا نہیں یہ محب حبیبﷺ کی بات ہے
وہ مَچل کے راہ میں رہ گئی ، یہ تڑپ کے دَ ر سے لپٹ گئی
وہ کِسی امیر کی آہ تھی، یہ کِسی غریب کی بات ہے
تُجھے اے منوّرِ بے نوا درِ شاہ سے چاہئیے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے.
نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
حالیہ پوسٹیں
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- قصیدۂ معراج
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے