جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
اُسی کے حسن کا جلوہ ہے اُس شمعِ رسالتﷺ میں
مِرے دل میں محبّت ہے مِرا دل ہے عبادت میں
تصور میں مدینہ ہے میں ہوں ہر وقت جنّت میں
نبی ﷺ کے اک اشارے سے قمر کیوں کر نہ ہو ٹکڑے
کہ فطرت کار فرما ہے حجاباتِ نبوّت میں
میں کہہ دوں گا قیامت میں، کہ روزِ امتحاں ہے وہ
مِرا ایماں محبّت ہے مجھے جانچو محبت میں
تِرا دل تو ہے جنّت میں، مِرے دل میں ہے وہ جنّت
یہی تو فرق ہے زاہد، عبادت میں محبّت میں
وہ مسلم جس کو تو نے خاص رحمت سے نوازا تھا
وہ اب بے حد پریشاں ہے وہی ہے اب مصیبت میں
پیمبرﷺ کی حقیقت کو کوئی تحسینؔ کیا سمجھے
جو مقطع ہے تخیل کا وہ مطلع ہے نبوّت میں
جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
حالیہ پوسٹیں
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا