خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
تجھے رحمتوں کا خدا مانتا ہوں
تیری بارگاہ کے میں قابل نہیں ہوں
تیری ہی قسم برملا مانتا ہوں
ہر اِک چیز میں تو ہی جلوہ نما ہے
ہر اِک چیز سے میں جدا مانتا ہوں
میرے عیب کج کے میری لاج رکھنا
کرم تیر ا ربِ عُلیٰ مانتا ہوں
میرے جرم و عصیاں کی اوقات کیا ہے
تیری بخششیں بے بہا مانتا ہوں
میں ذاتِ محمد کو بے شک خدایا
تیرے بعد سب سے بڑا مانتا ہوں
تیرے در پہ جو چند سجدے کیے ہیں
میں ان کو بھی تیری عطا مانتا ہوں
تیرے در پہ جو بھی پناہ مانگتا ہے
تو لیتا ہے اس کو بچا مانتا ہوں
جو محبوؔب لکھتا ہے نعتیں نبی کی
تو اس کو بھی تیری رضا مانتا ہوں
خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- ایمان ہے قال مصطفائی
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- سیف الملوک
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- صانع نے اِک باغ لگایا
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- رُبا عیات
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں