خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
تجھے رحمتوں کا خدا مانتا ہوں
تیری بارگاہ کے میں قابل نہیں ہوں
تیری ہی قسم برملا مانتا ہوں
ہر اِک چیز میں تو ہی جلوہ نما ہے
ہر اِک چیز سے میں جدا مانتا ہوں
میرے عیب کج کے میری لاج رکھنا
کرم تیر ا ربِ عُلیٰ مانتا ہوں
میرے جرم و عصیاں کی اوقات کیا ہے
تیری بخششیں بے بہا مانتا ہوں
میں ذاتِ محمد کو بے شک خدایا
تیرے بعد سب سے بڑا مانتا ہوں
تیرے در پہ جو چند سجدے کیے ہیں
میں ان کو بھی تیری عطا مانتا ہوں
تیرے در پہ جو بھی پناہ مانگتا ہے
تو لیتا ہے اس کو بچا مانتا ہوں
جو محبوؔب لکھتا ہے نعتیں نبی کی
تو اس کو بھی تیری رضا مانتا ہوں
خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی