خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
تجھے رحمتوں کا خدا مانتا ہوں
تیری بارگاہ کے میں قابل نہیں ہوں
تیری ہی قسم برملا مانتا ہوں
ہر اِک چیز میں تو ہی جلوہ نما ہے
ہر اِک چیز سے میں جدا مانتا ہوں
میرے عیب کج کے میری لاج رکھنا
کرم تیر ا ربِ عُلیٰ مانتا ہوں
میرے جرم و عصیاں کی اوقات کیا ہے
تیری بخششیں بے بہا مانتا ہوں
میں ذاتِ محمد کو بے شک خدایا
تیرے بعد سب سے بڑا مانتا ہوں
تیرے در پہ جو چند سجدے کیے ہیں
میں ان کو بھی تیری عطا مانتا ہوں
تیرے در پہ جو بھی پناہ مانگتا ہے
تو لیتا ہے اس کو بچا مانتا ہوں
جو محبوؔب لکھتا ہے نعتیں نبی کی
تو اس کو بھی تیری رضا مانتا ہوں
خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- قصیدۂ معراج
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے