یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
مجھ میں بھی گدائی کا ہُنر ہے کہ نہیں ہے
شہ رگ سے بھی اقرب ہے تیری ذات خدایا
اس قُرب سے اقرب بھی مگر ہے کہ نہیں ہے
انعام تیرے گن نہ سکوں پھر بھی ہے دھڑکا
تقدیر میں طیبہ کا سفر ہے کہ نہیں ہے
جن جلووں سے نوری بھی بنیں راکھ کی ڈھیری
ان جلووں سے مخمور بشر ہے کہ نہیں ہے
سدرہ سے وریٰ تیرے جہانوں میں خداوند
اِک پیار کا آباد شہر ہے کہ نہیں ہے
ہر آنکھ کی طاقت سے وریٰ ذات بتا تو
جس نے تجھے دیکھا وہ نظر ہے کہ نہیں ہے
اے میرے اِلہٰ تیری ثنا تیرے نبی کی
چاھت میں بنا سارا دھر ہے کہ نہیں ہے
یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
حالیہ پوسٹیں
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- انکی مدحت کرتے ہیں
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے