یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
مجھ میں بھی گدائی کا ہُنر ہے کہ نہیں ہے
شہ رگ سے بھی اقرب ہے تیری ذات خدایا
اس قُرب سے اقرب بھی مگر ہے کہ نہیں ہے
انعام تیرے گن نہ سکوں پھر بھی ہے دھڑکا
تقدیر میں طیبہ کا سفر ہے کہ نہیں ہے
جن جلووں سے نوری بھی بنیں راکھ کی ڈھیری
ان جلووں سے مخمور بشر ہے کہ نہیں ہے
سدرہ سے وریٰ تیرے جہانوں میں خداوند
اِک پیار کا آباد شہر ہے کہ نہیں ہے
ہر آنکھ کی طاقت سے وریٰ ذات بتا تو
جس نے تجھے دیکھا وہ نظر ہے کہ نہیں ہے
اے میرے اِلہٰ تیری ثنا تیرے نبی کی
چاھت میں بنا سارا دھر ہے کہ نہیں ہے
یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
حالیہ پوسٹیں
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ