یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
یہ زمیں آپ کی آسماں آپ کا
رحمت عالمیں آپ کی ذات ہے
سب یہ لطف کرم ہے عیاں آپ کا
آپ کا ذکر کرتی ہے ہردم زباں
قلب کرتا ہے ہردم بیاں آپ کا
عاصیوں کے لیے جز ندامت ہے کیا
آسرا ہے شفیع زماں آپ کا
اس کو رہتی ہے ہردم مدینے کی دھن
یہ جو بہزاد ہے نعت خواں آپ کا
یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
حالیہ پوسٹیں
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- ہتھ بنھ کے میں ترلے پانواں مینوں سد لو مدینے آقا
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- طوبےٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- سر بزم جھومتا ہے سر عام جھومتا ہے
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں