تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے
جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے
مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے
یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے
زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے
الہی میں قربان تیرے کرم کے
مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے
وہی اشک ہے حاصل زندگانی
جو ہر آنسو پہ یاد حبیبﷺ آ رہا ہے
جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا
خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے
جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی
در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
حالیہ پوسٹیں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- خدا کی خدائی کے اسرار دیکھوں
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں