تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے
جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے
مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے
یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے
زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے
الہی میں قربان تیرے کرم کے
مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے
وہی اشک ہے حاصل زندگانی
جو ہر آنسو پہ یاد حبیبﷺ آ رہا ہے
جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا
خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے
جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی
در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
حالیہ پوسٹیں
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا