تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- سوھنیاں نیں آقا تیرے روضے دیاں جالیاں
- سیف الملوک
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- میرے مولا کرم کر دے
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ