تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- نہ پوچھو کہ کیا ہیں ہمارے محمدؐ
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- ایمان ہے قال مصطفائی
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا