تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- عکسِ روئے مصطفے سے ایسی زیبائی ملی
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے