تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
کہ ہر ایک بالا سے بالا لکھوں
اے نورِ نبوت کے منبع و مخرج
اندھیرے جہاں کا اجالا لکھوں
خدا نور ہے سارے ارض و سماء کا
میں اس نور کا تجھ کو ہالہ لکھوں
خدا کی خدائی کے شاہکارِ اعظم
میں ذاتِ خدا کا حوالہ لکھوں
تیری ذاتِ اقدس اے خیرالبشر
پسندیدۂِ ربِ اعلیٰ لکھوں
تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
حالیہ پوسٹیں
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- تُو کجا من کجا
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار