ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
نور ہی نور تھا دیکھتے رہ گئے
کملی والا گیا لامکاں سے وریٰ
سب کے سب انبیاء دیکھتے رہ گئے
جس کے صدقے میں پلتے ہیں دونوں جہاں
اس کی جود و سخا دیکھتے رہ گئے
جس کے تلووں کو چومے ہے عرشِ الہٰ
اس کی شانِ عُلیٰ دیکھتے رہ گئے
جس کے لب پہ عدو کے لئے بھی دعا
اس کا خلقِ عُلیٰ دیکھتے رہ گئے
جسکے جلووں سے روشن ہیں دونوں جہاں
وہ حقیقت ہے کیا دیکھتے رہ گئے
روزِ محشر سبھی رب کے دربار میں
کملی والے کی جاہ دیکھتے رہ گئے
حشر کی سختیاں خودبخود چھٹ گئیں
ہم رُخِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
حالیہ پوسٹیں
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں