ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
نور ہی نور تھا دیکھتے رہ گئے
کملی والا گیا لامکاں سے وریٰ
سب کے سب انبیاء دیکھتے رہ گئے
جس کے صدقے میں پلتے ہیں دونوں جہاں
اس کی جود و سخا دیکھتے رہ گئے
جس کے تلووں کو چومے ہے عرشِ الہٰ
اس کی شانِ عُلیٰ دیکھتے رہ گئے
جس کے لب پہ عدو کے لئے بھی دعا
اس کا خلقِ عُلیٰ دیکھتے رہ گئے
جسکے جلووں سے روشن ہیں دونوں جہاں
وہ حقیقت ہے کیا دیکھتے رہ گئے
روزِ محشر سبھی رب کے دربار میں
کملی والے کی جاہ دیکھتے رہ گئے
حشر کی سختیاں خودبخود چھٹ گئیں
ہم رُخِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
حالیہ پوسٹیں
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا