یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
رحمتِ دو جہاں اک تری ذات ہے اے حبیبِ خدا تیری کیا بات ہے
روحِ کون ومکاں پہ نکھار آ گیا روحِ انسانیت کو قرار آگیا
مرحبا مرحبا ہر کسی نے کہا، آمدِ مصطفےٰ تیری کیا بات ہے
حضرت آمنہ کے دُلارے نبی، غمزدہ اُمتّوں کے سہارے نبی
روزِ محشر کہے گی یہ خلقِ خدا، سب کے مشکل کشا تیری کیا بات ہے
چار سوُ رحمتوں کی گھٹا چھاگئی، باغِ عالم میں فصلِ بہار آگئی
دل کا غنچہ کِھلا اسمِ اعظم ملا، ذکرِ صلِ علیٰ تیری کیا بات ہے
رحمتِ دو جہاں کا خرنینہ ملےِ، جب گلے سے ہوائے مدینہ ملےِ
عرشیوں کی ندا فرشیوں کی صدا، اے درِ مصطفےٰ تیری کیا بات ہے
آرزو بھی جو دل کی وہ پوری ہوئی، روضہِ مصطفےٰ کی حضوری ہوئی
ہر جگہ پہ ظہوری ظہوری ہوئی، اے نبی کے گدا تیری کیا بات ہے
یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
حالیہ پوسٹیں
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا