رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
مہک رچی ہے جنت کی اسکے پاک نظاروں میں
جن کا ہر دم یاد میں تیری کھویا کھویا گزرے ہے
مجھے بھی آقا شامل کر لو دید کے ان بیماروں میں
چاند کی چاندی دن کا اجالا صلیِ علیٰ کا صدقہ ہے
نورِ محؐمد کی ہی ضیاء ہے عرشِ بریں کے تاروں میں
شانِ محؐمد شانِ خدا ہے آپکی مانند کون ہوا ہے
سب سے بر تر سب سے اعلیٰ قدرت کے شاہکاروں میں
انکی عظمت انکی شوکت کون بتائے کیسے بتائے
انکے خادم انکے درباں رب کے خاص پیاروں میں
محبؔوب کمینہ کیونکر آقا تیری نظر سے گزرے گا
غوث قطب ابدال ولی سب طیبہ کے مے خواروں میں
رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
حالیہ پوسٹیں
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں