اک خواب سناواں
پر نور فضاواں
آقا دا محلہ
جیویں عرش معلیٰ
کدی آؤن فرشتے
کدی جاؤن فرشتے
ساڈے ازلوں جڑ گئے
آقا نال رشتے
او کرماں والا ویہڑا
پلکاں نال چمدا جانواں
اک خواب سناواں
اک خواب سناواں
رب لے گیا مینوں
جدوں شہر مدینے
ہک حاجی لایا مینوں
گُھٹ کےسینے
کدی پیواں زم زم
کدی پڑھاں نمازوں
میری پہنچ جتھوں تک
میں دیاں نیازاں
رب سوہنے پل وچ سُنیاں
میرے دل دیاں سب دعاواں
اک خواب سناواں
اک خواب سناواں
چپ کر کے بہہ گیا
روضے دے نیڑے
ہویا نور دا چانن
میرے دل دے ویہڑے
فئیر سُفنا ٹُٹیا
اوہو کچی کُلی
میں روپیا صادق
میری اکھ کیوں کھُلی
اک خواب سناواں
رو رو کے سُناواں
اک خواب سناواں
حالیہ پوسٹیں
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- چھائے غم کے بادل کالے
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال