ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- اک خواب سناواں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- یا رب میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا