ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- صانع نے اِک باغ لگایا
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا