ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- دعا
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- ایمان ہے قال مصطفائی
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں