ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- رب دیاں رحمتاں لٹائی رکھدے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- اللہ دے حضور دی اے گل وکھری
- سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی