ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول