ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- اک خواب سناواں
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا