ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
جس جگہ آپ نے نعلین اتارے ہونگے
بوئے گل اس لیے پھرتی ہے چھپائے چہرہ
گیسو سرکار دوعالم نے سنوارے ہونگے
ایک میں کیا میرے شاہ کے شہنشاہ انکے
تیرے ٹکڑوں پہ شب و روز گزارے ہونگے
لوگ تو حسن عمل لیکے چلے روزحساب
سرورا ہم تو فقط تیرے سہارے ہونگے
اٹھ گئی جب تیری جانب وہ قدم بار نظر
اس گھڑی قطب تیرے وارے نیارے ہونگے
ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
حالیہ پوسٹیں
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- اسیروں کے مشکل کشا غوث اعظم
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں