لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- سیف الملوک
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے