لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- رُبا عیات
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ