لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- کبھی ان کی خدمت میں جا کے تودیکھو
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا