لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- سب سے افضل سب سے اعظم
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- میرے نبی پیارے نبی ؑ ہے مرتبہ بالا تیرا
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی