لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
اُن ﷺ کو جلوے دکھائے جاتے ہیں
وہ سرِ طور خود گئے، لیکن
عرش پر یہﷺ بُلائے جاتے ہیں
رب نے سب کچھ عطا کیا اُنﷺ کو
پانے والے اُنھی سے پاتے ہیں
حق شناسی ہے فطرت مومن کی
جس کا کھاتے ہیں اُسی کا گاتے ہیں
علمِ غیبِ رسولﷺ کے منکر
اک حقیقت کو بھول جاتے ہیں
غیب مانا کہ راز ہے، لیکن
راز اپنوں سے کب چھپائے جاتے ہیں
لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی
حالیہ پوسٹیں
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- دمِ حشر جب نہ کسی کو بھی تیرے بن ملے گی امان بھی
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- سیف الملوک
- سرور انبیاء کی ہے محفل سجی
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع