کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- Haajiyo Aawo shahenshah ka roza dekho
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا