کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- ہو ورد صبح و مسا لا الہ الا اللہ
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- بیبا عاشقاں دے رِیت تے رواج وکھرے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ