کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل