کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- تُو کجا من کجا
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا