کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- خوب نام محمد ھے اے مومنو
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں