کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
پناہ کملی والے پناہ کملی والے
حرص سے ہوس سے حسد سے بغض سے
بچا کملی والے بچا کملی والے
مجھ عاصی کو اک بار پھر اپنے در پہ
بلا کملی والے بلا کملی والے
ہے اجڑی ہوئی میرے دل کی بھی بستی
بسا کملی والے بسا کملی والے
وہ جنت سے اعلیٰ مدینے کی گلیاں
دکھا کملی والے دکھا کملی والے
ہے میرا مقدر بھی سویا کبھی کا
جگا کملی ولے جگا کملی ولے
کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
حالیہ پوسٹیں
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- انکی مدحت کرتے ہیں
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- اک خواب سناواں
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے