تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے
جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے
مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے
یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے
زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے
الہی میں قربان تیرے کرم کے
مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے
وہی اشک ہے حاصل زندگانی
جو ہر آنسو پہ یاد حبیبﷺ آ رہا ہے
جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا
خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے
جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی
در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
حالیہ پوسٹیں
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- انکی مدحت کرتے ہیں
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- اج سک متراں دی ودھیری اے