تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
کہ جیسے وہ روضہ قریب آ رہا ہے
جسے دیکھ کر روح یہ کہہ رہی ہے
مرے درد دل کا طبیب آ رہا ہے
یہ کیا راز ہے مجھ کو کوئی بتائے
زباں پر جو اسم حبیب آ رہا ہے
الہی میں قربان تیرے کرم کے
مرے کام میرا نصیب آ رہا ہے
وہی اشک ہے حاصل زندگانی
جو ہر آنسو پہ یاد حبیبﷺ آ رہا ہے
جسے حاصل کیف کہتی ہے دنیا
خوشا اب وہ عالم قریب آ رہا ہے
جو بہزاد پہنچا تو دنیا کہے گی
در شاہ پر اک غریب آ رہا ہے
تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
حالیہ پوسٹیں
- کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں