ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
نظر اساڈی تیری راہ اُتے ٹِکی اے
تساں دو جہاناں لئی رحمتاں ای رحمتاں
بیڑی میری فیر کیوں راہ وچ رُکی اے
میریاں گناہواں دا شمار آقا کوئی نہ
عملاں تو خالی جھولی تیرے اگے وچھی اے
دنیا دی لوڑ اے نہ دنیا دی پرواہ
اساں تے نماز تیرے عشقے دی نیتی اے
تیرے درِ پاک اُتے ہر گھڑی ہر پل
کلا میں نیئیں جُھکدا خدائی ساری جھکی اے
آقا تیری رحمتاں دی حد نہ شمار
ہر پاسے ایہو ای دہائی مچی اے
ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
حالیہ پوسٹیں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- سیف الملوک
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے