پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
جھومتا جھومتا میں مدینے چلا
ساقیا مے پلا میں مدینے چلا
مست و بے خود بنامیں مدینے چلا
کیف سا چھا گیا میں مدینے چلا
جھومتاجھومتا میں مدینے چلا
اشک تھمتے نہیں پاؤں جمتے نہیں
لڑکھڑاتا ہوا میں مدینے چلا
میرے آقا کا در ہو گا پیش نظر
چاہیے اور کیا میں مدینے چلا
کیا بتاؤں ملی دل کو کیسی خوشی
جب یہ مژدہ سنا میں مدینے چلا
پھر اجازت ملی جب خبر یہ سنی
دل میرا جھوم اٹھا میں مدینے چلا
مسکرانے لگی دل کی ہر ہر کلی
غنچہ دل کھلا میں مدینے چلا
اے شجر اے ہجر تم بھی شمس و قمر
دیکھو دیکھو ذرا میں مدینے چلا
دیکھیں تارے مجھے یہ نظارے مجھے
تم بھی دیکھو ذرا میں مدینے چلا
روح مضطر ٹہر تو نکلنا ادھر
اتنی جلدی بھی کیا میں مدینے چلا
نور حق کے حضور اپنے سارے قصور
بخشوانے چلا میں مدینے چلا
میرے صدیقؓ عمرؓ ہو سلام آپ پر
اور رحمت سدامیں مدینے چلا
وہ احد کی زمیں جس کے اندر مکیں
میرے حمزہؓ پیا میں مدینے چلا
وہ بقی کی زمیں جس کے اندر مکیں
میرے مدنی پیا میں مدینے چلا
سبز گنبد کا نور زنگ کر دے گا دور
پائے گا دل جلا میں مدینے چلا
گنبد سبز پر جب پڑے گی نظر
کیا سرور آئے گا میں مدینے چلا
انکے مینار پر جب پڑے گی نظر
کیا سرور آئے گا میں مدینے چلا
منبر نور پر جب اٹھے گی نظر
کیا سرور آئے گا میں مدینے چلا
ہاتھ اٹھتے رہے مجھ کو دیتے رہے
وہ طلب سے سوا میں مدینے چلا
کیف سا چھا گیا میں مدینے چلا
جھومتا جھومتا میں مدینے چلا
میرے گندے قدم اور ان کا حرم
لاج رکھنا خدا میں مدینے چلا
کیف و مستی عطا مجھ کو کر دے خدا
مانگتا یہ دعا میں مدینے چلا
درد الفت ملے ذوق بڑھنے لگے
جب چلے قافلہ میں مدینے چلا
ان کا غم چشم تر اور سوز جگر
اب تو دے دے خدا میں مدینے چلا
کیا کرے گا ادھر باندھ رخت سفر
چل عبیدؔ رضا میں مدینے چلا
پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
حالیہ پوسٹیں
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- سُن کملے دِلا جے توں چاھنا ایں وسنا
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
- اک خواب سناواں
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں