در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
گزرے جو وہاں شام و سحر کیسا لگے گا
اے کاش مدینے میں مجھے موت ہوں آئے
قدموں میں ہو سرکار ﷺکے سر کیسا لگے گا
جب دور سے ہے اتنا حسیں گنبد خضریٰ
اس پار یہ عالم ہے ادھر کیسا لگے گا
آ جائیں اگر گھر میں میرے رحمت عالم
میں کیسا لگوں گا میرا گھر کیسا لگے گا
اے پیارے خدا دیکھوں میں سرکار کا جلوہ
مل جائے دعا کو جو اثر کیسا لگے گا
طیبہ کی سعادت تو یوں پاتے ہیں ہزاروں
مرشد کے ساتھ ہو جو سفر کیسا لگے گا
غوث الوریٰ سے پوچھ لیں بغداد یہ چل کر
بغداد سے طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
محفل میں جب آجائے شیر بریلو ی
ا للہ کا یہ ولی کیسا لگے گا
در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
حالیہ پوسٹیں
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- میں گدائے دیارِ نبی ہوں پوچھیئے میرے دامن میں کیا ہے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا