نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
کریم آقا تیرے کرم کی طلب ہے
مدینے میں مِل جائے چھوٹی سی کُٹیا
نہ جنت نہ لوح و قلم کی طلب ہے
میری عیب پوشی سدا کرتے رہنا
کبھی جو نہ ٹوٹے بھرم کی طلب ہے
مصائب سے ایمان مضبوط تر ہو
ہاں شیرِ خدا کے عزم کی طلب ہے
تیری یاد میں جو ہمیشہ رہے نم
مجھے شاہا ایسی چشم کی طلب ہے
جو میرے عشق کو جِلا بخش دیوے
میرے دل کو ایسے ستم کی طلب ہے
میرے جُرم و عصیاں ہیں ان گِنت مولا
تیری بارگاہ سے رحم کی طلب ہے
جو غفلت کی نیندوں سے دل کو جگا دے
مجھے اس نگاہِ کرم کی طلب ہے
نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
حالیہ پوسٹیں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- باغ‘جنت کے ہیں بہرِ مدح خوانِ اہلِ بیت
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- چاند تاروں نے پائی ہے جس سے چمک
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- نور کس کا ہے چاند تاروں میں
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- ایمان ہے قال مصطفائی
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا