نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
کریم آقا تیرے کرم کی طلب ہے
مدینے میں مِل جائے چھوٹی سی کُٹیا
نہ جنت نہ لوح و قلم کی طلب ہے
میری عیب پوشی سدا کرتے رہنا
کبھی جو نہ ٹوٹے بھرم کی طلب ہے
مصائب سے ایمان مضبوط تر ہو
ہاں شیرِ خدا کے عزم کی طلب ہے
تیری یاد میں جو ہمیشہ رہے نم
مجھے شاہا ایسی چشم کی طلب ہے
جو میرے عشق کو جِلا بخش دیوے
میرے دل کو ایسے ستم کی طلب ہے
میرے جُرم و عصیاں ہیں ان گِنت مولا
تیری بارگاہ سے رحم کی طلب ہے
جو غفلت کی نیندوں سے دل کو جگا دے
مجھے اس نگاہِ کرم کی طلب ہے
نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
حالیہ پوسٹیں
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عرب
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- گزرے جس راہ سے وہ سیدِ والا ہو کر
- بس! محمد ہے نبی سارے زمانے والا
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- جب سے ان کی گلی کا گدا ہو گیا
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ