تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
یہی ابتداء یہی انتہا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
آئے غم جدھر سے ادھر گئے میرے بگڑے کام سنور گئے
میں نے جب زبان سے یہ کہا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
ہو قریب فاصلہ دور کا ہو کرم یہ رب غفور کا
ہو دیدار آج حضور کا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
میں تھا کیا مجھے کیا بنا دیا مجھے عشقِ احمد عطا کیا
ہو بھلا حضورکی آل کا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
میں غلام ابن غلام ہوں میں تو پنجتن کا غلام ہوں
میرا رہنما میرا پیشوا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
مرے جب سجنؔ تو ہے یہ دعا میرے لب پے ہو نام مصطفی
میری قبر پے ہو لکھاہوا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ
تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
حالیہ پوسٹیں
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- چھائے غم کے بادل کالے
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- نہ کہیں سے دُور ہیں مَنزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے
- یہ حقیقت ہے کہ جینا وہی جینا ہوگا
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- سوہنا اے من موہنا اے آمنہ تیرا لال نی
- کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
- حدودِ طائر سدرہ، حضور جانتے ہیں