خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- میرے اتے کرم کما سوھنیا
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- سیف الملوک
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- گلزارِ مدینہ صلِّ علیٰ،رحمت کی گھٹا سبحان اللّٰٰہ
- کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلاف
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- خوشی سب ہی مناتے ہیں میرے سرکار آتے ہیں
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں