خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- میرے مولا کرم ہو کرم
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا