خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- جذب و جنوں میں انکی بابت جانے کیا کیا بول گیا
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- تیری شان پہ میری جان فدا
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا