میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
کردے میرے آقا اب نظر کرم
میں تو بے سہارا ہوں دامن بھی ہے خالی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
…میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
غم کے اندھیروں نے گھیرا ہوا ہے
آقا دشوار اب جینا میرا ہوا ہے
بگڑی بنادو میری طیبہ کے والی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
…میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
جس کو بلایا گیا وہ ہی عرش بریں ہے
آپ کے سوا ایسا کوئی نہیں ہے
جس کی نہ بات کوئی رب نے بھی ٹالی
نبیوں کے نبی تیری شان ہے نرالی
میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
کردے میرے آقا اب نظر کرم۔
میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
حالیہ پوسٹیں
- نہ زر نہ ہی جاہ و حشم کی طلب ہے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- شہنشاہا حبیبا مدینہ دیا خیر منگناہاں میں تیری سرکار چوں
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺍﻣﺎﻥ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﻨﺎ
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے