مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
کرم کملی والے کا کتنا بڑا ہے
میں کھو جاؤں طیبہ کی گلیوں میں جا کے
یہی آرزو ہے یہی اِک دعا ہے
مجھے اپنی رحمت کے سائے میں لے لو
میرا ہر عمل آقا پُر از خطا ہے
زمانے میں چرچے ہیں تیری سخا کے
تو مجھ جیسے لاکھوں کا اِک آسرا ہے
اشاروں پہ تیرے چلیں چاند سورج
خدا سے جدا ہو یہ کامِ خدا ہے
تعین کریں اختیارِ نبی کا
حماقت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
حالیہ پوسٹیں
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں