مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
میں ان پیاری پیاری فضاؤں پہ صدقے
وہ کتنے حسیں کتنے پُر کشش ہونگے
خدا بھی ہے جن کی اداؤں پہ صدقے
جہاں کملی والا رہا آتا جاتا
میں ان گھاٹیوں ان گھپاؤں پہ صدقے
مدینے کی راہ میں جو ہیں پیش آتی
میں ان مشکلوں ان جفاؤں پہ صدقے
جو آقا کو شفقت پہ مجبور کر دیں
میں ان غلطیوں ان خطاؤں پہ صدقے
جو دربارِ طیبہ سے اٹھتی ہیں ہر دم
میں ان نوری نوری شعاؤں پہ صدقے
جو مانگی ہیں امت کی خاطر نبی نے
میں ان پیاری پیاری دعاؤں پہ صدقے
مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
حالیہ پوسٹیں
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- طیبہ نگری کی گلیوں میں دل کی حالت مت پوچھو
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- انکی مدحت کرتے ہیں
- اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
- پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- تلو مونی علی ذنب عظیم
- نبی سَروَرِ ہر رسول و ولی ہے
- سب دواروں سے بڑا شاہا دوارا تیرا
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- تیری شان پہ میری جان فدا