مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
میں ان پیاری پیاری فضاؤں پہ صدقے
وہ کتنے حسیں کتنے پُر کشش ہونگے
خدا بھی ہے جن کی اداؤں پہ صدقے
جہاں کملی والا رہا آتا جاتا
میں ان گھاٹیوں ان گھپاؤں پہ صدقے
مدینے کی راہ میں جو ہیں پیش آتی
میں ان مشکلوں ان جفاؤں پہ صدقے
جو آقا کو شفقت پہ مجبور کر دیں
میں ان غلطیوں ان خطاؤں پہ صدقے
جو دربارِ طیبہ سے اٹھتی ہیں ہر دم
میں ان نوری نوری شعاؤں پہ صدقے
جو مانگی ہیں امت کی خاطر نبی نے
میں ان پیاری پیاری دعاؤں پہ صدقے
مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
حالیہ پوسٹیں
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- تو سب کا رب سب تیرے گدا
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت