اے مدینہ کے تاجدار سلام
اے غریبوں کے غمگسار سلام
تری اک اک اَدا پر اے پیارے
سَو دُرودیں فدا ہزار سلام
رَبِّ سَلِّمْ کے کہنے والے پر
جان کے ساتھ ہو نثار سلام
میرے پیارے پہ میرے آقا پر
میری جانب سے لاکھ بار سلام
میری بگڑی بنانے والے پر
بھیج اے میرے کِردگار سلام
اُس پناہِ گناہ گاراں پر
یہ سلام اور کروڑ بار سلام
اُس جوابِ سلام کے صدقے
تا قیامت ہوں بے شمار سلام
اُن کی محفل میں ساتھ لے جائیں
حسرتِ جانِ بے قرار سلام
پردہ میرا نہ فاش حشر میں ہو
اے مرے حق کے راز دار سلام
وہ سلامت رہا قیامت میں
پڑھ لیے جس نے دل سے چار سلام
عرض کرتا ہے یہ حسنؔ تیرا
تجھ پہ اے خُلد کی بہار سلام
اے مدینہ کے تاجدار سلام
حالیہ پوسٹیں
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- حضور ایسا کوئی انتظام ہو جائے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- تیرا ذکر میری ہے زندگی تیری نعت میری ہے بندگی
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- تنم فرسودہ، جاں پارہ ز ہجراں، یا رسول اللہ ۖ
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- دیس عرب کے چاند سہانے رکھ لو اپنے قدموں میں
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- کیا بتاؤں کہ شہرِ نبی میں پہنچ جانا ہے کتنی سعادت