ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
تیری غلامی کا دم بھرنا اچھا لگتا ہے
تیری نسبت سے طیبہ کی دل میں عقیدت اور چاہت ہے
یہاں پہ آنکھوں کے بل چلنا اچھا لگتا ہے
جس نے تیرے پاؤں چومے اس دھرتی کے ذروں کو
سرمہ بنا کے آنکھ میں بھرنا اچھا لگتا ہے
ہر اِک سانس ہے تیری امانت تیری چاہت رب کی چاہت
تیری محبت ہی میں جینا اچھا لگتا ہے
پہرے داروں کے پہرے میں اور چھڑیوں کی چھاؤں میں
روضے کی جالی کو چومنا اچھا لگتا ہے
جن گلیوں کو تجھ سے نسبت وہ عشاق کی منزل ہیں
ان گلیوں میں سجدے کرنا اچھا لگتا ہے
سارے ملائک اور خالق بھی تجھ پہ درود و سلام پڑھیں
ذکر تیرا صبح شام میں کرنا اچھا لگتا ہے
ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
حالیہ پوسٹیں
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے