یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل
- ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا