یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
- سرکار یہ نام تمھارا سب ناموں سے ہے پیارا
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
- کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج