یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- میرے مولا کرم کر دے
- میں مدینے چلا میں مدینے چلا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- خطا کار ہوں با خدا مانتا ہوں
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے