یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے
- کدی میم دا گھونگھٹ چا تے سہی
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- حُضور! آپ کا رُتبہ نہ پا سکا کوئی
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- جنہاں نوں اے نسبت او تھاواں تے ویکھو
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- کہتے ہیں عدی بن مسافر