یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- نبی اللہ نبی اللہ جپدے رہوو
- اپنی رحمت کے سمندر میں اُتر جانے دے
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- میرے مولا کرم کر دے
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- فلک پہ دیکھا زمیں پہ دیکھا عجیب تیرا مقام دیکھا
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کر
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- روک لیتی ہے آپ کی نسبت تیر جتنے بھی ہم پہ چلتے ہیں
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ