یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- خدا کی خلق میں سب انبیا خاص
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- آمنہ بی بی کے گلشن میں آئی ہے تازہ بہار
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی میرا سن کے دل شاد ہوتا رہے گا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- سرکار دو عالم کے رخ پرانوار کا عالم کیا ہوگا
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- نامِ نبیؐ تو وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
- دل دیاں اکھاں کدی کھول تے سہی
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں