یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
دامن میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے
ملتی نہ اگر بھیگ حضور آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے
بے دام ہی بکِ جائیں گے دربارِ نبی میں
اس طرح کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے
ہم جیسے نکموں کو گلے کون لگاتا
سرکار اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
وہ چاہیں بلالیں جسے یہ ان کا کرم ہے
بے اذِن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے
خالد یہ تقدس ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں ترے وارے نیارے نہیں ہوتے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
حالیہ پوسٹیں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- چمن دلوں کے کھلانا، حضور جانتے ہیں
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونق
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- یا صاحب الجمال و یا سید البشر
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- یا محمد ہے سارا جہاں آپ کا
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
- عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار تو کھلتے ہیں
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا