اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
مجھ کوبھی محمدﷺ کا دیوانہ بنا جانا
جس خواب میں ہو جائے دیدارِ نبیﷺ حاصل
اے عشق کبھی مجھ کو نیند ایسی سُلا جانا
ہر خواہشِ نفس میری اک بت ہے میرے دل کا
بت خانئہ دل میرا کعبہ سا بنا جانا
جو رنگ کہ جامی پر رومی پر چڑھایا تھا
اس رنگ کی کچھ رنگت مجھ پہ بھی چڑھا جانا
خرقانی و بسطامی منصور نے جو پی تھی
اک قطرہ اسی مے کا مجھ کو بھی پلا جانا
قدرت کی نگاہیں بھی جس چہرے کو تکتی تھیں
اس چہرہء انور کا دیدار کرا جانا
دیدارِ محمدﷺ کی حسرت تو رہے باقی
جز اس کے ہر اک حسرت اس دل سے مٹا جانا
دنیا سے ریاضؔ ہو جب عقبیٰ کی طرف جانا
داغِ غمِ احمد سے سینے کو سجا جانا
اے کاش ریاضؔ آئے مژدہ یہ مدینے سے
سرکارﷺ بلاتے ہیں اک نعت سنا جانا
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
مجھ کوبھی محمدﷺ کا دیوانہ بنا جانا
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا
حالیہ پوسٹیں
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقی
- ادھر بھی نگاہِ کرم یا محمد ! صدا دے رہے ہیں یہ در پر سوالی
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضحی ترے چہرہ ءِ نور فزا کی قسم
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- نارِ دوزخ کو چمن کردے بہارِ عارض
- تیری شان کیا شاہِ والا لکھوں
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- اٹھا دو پردہ دِکھا دو چہرہ، کہ نور باری حجاب میں ہے