مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
میں ان پیاری پیاری فضاؤں پہ صدقے
وہ کتنے حسیں کتنے پُر کشش ہونگے
خدا بھی ہے جن کی اداؤں پہ صدقے
جہاں کملی والا رہا آتا جاتا
میں ان گھاٹیوں ان گھپاؤں پہ صدقے
مدینے کی راہ میں جو ہیں پیش آتی
میں ان مشکلوں ان جفاؤں پہ صدقے
جو آقا کو شفقت پہ مجبور کر دیں
میں ان غلطیوں ان خطاؤں پہ صدقے
جو دربارِ طیبہ سے اٹھتی ہیں ہر دم
میں ان نوری نوری شعاؤں پہ صدقے
جو مانگی ہیں امت کی خاطر نبی نے
میں ان پیاری پیاری دعاؤں پہ صدقے
مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
حالیہ پوسٹیں
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- صانع نے اِک باغ لگایا
- تمھارے در سے اٹھوں میں تشنہ زمانہ پوچھے تو کیا کہوں گا
- اے مدینہ کے تاجدار سلام
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبح
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- نہ اِترائیں کیوں عاشقانِ محؐمد
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے