اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
کیا کیا نہ سکوں پایا سرکار کے قدموں میں
دل کا تھا عجب عالم ان کے در اقدس پر
سر پر تھا عجب سایہ سرکار کے قدموں میں
وہ رب محمد کا تھا خاص کرم جس نے
عالم نیا دیکھلایا سرکار کے قدموں میں
جب سامنے جالی کے اشکوں کی سلامی دی
سو شکر بجا لایا سرکار کے قدموں میں
تارا تھا کہ جگنو تھا گوہر تھا کہ برگ گل
جو اشک کہ لہرایا سرکار کے قدموں میں
سانسوں کا تموج بھی اک بار لگا مجھ کو
وہ مرحلہ بھی آیا سرکار کے قدموں میں
وہ اپنے گناہوں کا احساس تھا بس تائب
جس نے مجھے تڑپایا سرکار کے قدموں میں
اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
حالیہ پوسٹیں
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخ
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- مل گئی دونوں عالم کی دولت ہاں درِ مصطفیٰ مل گیا ہے
- سلام اس ذاتِ اقدس پر سلام اس فخرِ دوراں پر
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی
- پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد یا غوث
- راتیں بھی مدینے کی باتیں بھی مدینے کی
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- نہ کلیم کا تصور نہ خیالِ طور سینا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- حُسن سارے کا سارا مدینے میں ہے
- تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں