محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
سبھی کام بگڑے سنوارے چلا جا
مجھے بھا گئے ہیں مدینے کے جلوے
ارے جنتوں کے نظارے چلا جا
لیا نام ان کا جو موجِ بلا میں
بھنور نے کہا جا کنارے چلا جا
مدینے میں بے خود ہوا جا رہا ہوں
اے صبرو ضبط کے سہارے چلا جا
پہنچ ہی گیا ہوں میں آقا کے در پر
میری زندگی کے خسارے چلا جا
جرم چاہے جتنے ہوں بخشش کی خاطر
حبیبِ خدا کے دوارے چلا جا
محبؔوب باقی ہے جو زندگانی
درِ مصطفےٰ پہ گزارے چلا جا
محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
حالیہ پوسٹیں
- تمہارے ذرے کے پرتو ستار ہائے فلک
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
- یا رب میری آہوں میں اثرہے کہ نہیں ہے
- میں تو امتی ہوں اے شاہ اُمم
- جو ہر شے کی حقیقت ہے جو پنہاں ہے حقیقت میں
- شاہِ کونین کی ہر ادا نور ہے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
- یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
- کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
- کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
- یا محمد نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں