محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
سبھی کام بگڑے سنوارے چلا جا
مجھے بھا گئے ہیں مدینے کے جلوے
ارے جنتوں کے نظارے چلا جا
لیا نام ان کا جو موجِ بلا میں
بھنور نے کہا جا کنارے چلا جا
مدینے میں بے خود ہوا جا رہا ہوں
اے صبرو ضبط کے سہارے چلا جا
پہنچ ہی گیا ہوں میں آقا کے در پر
میری زندگی کے خسارے چلا جا
جرم چاہے جتنے ہوں بخشش کی خاطر
حبیبِ خدا کے دوارے چلا جا
محبؔوب باقی ہے جو زندگانی
درِ مصطفےٰ پہ گزارے چلا جا
محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
حالیہ پوسٹیں
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- انکے درِ نیاز پر سارا جہاں جھکا ہوا
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- بے خُود کِیے دیتے ہیں اَندازِ حِجَابَانَہ
- مولاي صل و سلم دائما أبدا
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو