محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
سبھی کام بگڑے سنوارے چلا جا
مجھے بھا گئے ہیں مدینے کے جلوے
ارے جنتوں کے نظارے چلا جا
لیا نام ان کا جو موجِ بلا میں
بھنور نے کہا جا کنارے چلا جا
مدینے میں بے خود ہوا جا رہا ہوں
اے صبرو ضبط کے سہارے چلا جا
پہنچ ہی گیا ہوں میں آقا کے در پر
میری زندگی کے خسارے چلا جا
جرم چاہے جتنے ہوں بخشش کی خاطر
حبیبِ خدا کے دوارے چلا جا
محبؔوب باقی ہے جو زندگانی
درِ مصطفےٰ پہ گزارے چلا جا
محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
حالیہ پوسٹیں
- ذرے اس خاک کے تابندہ ستارے ہونگے
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیا
- بارہ ربیع الاول كے دن ابرِ بہارا چھائے
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- آج آئے نبیوں کے سردار مرحبا
- رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوں
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- آرزو ہے میری یامحمد موت آئے تو اس طرح آئے
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- رب دے پیار دی اے گل وکھری
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- تو شاہِ خوباں، تو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیرا
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیع
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے