محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
سبھی کام بگڑے سنوارے چلا جا
مجھے بھا گئے ہیں مدینے کے جلوے
ارے جنتوں کے نظارے چلا جا
لیا نام ان کا جو موجِ بلا میں
بھنور نے کہا جا کنارے چلا جا
مدینے میں بے خود ہوا جا رہا ہوں
اے صبرو ضبط کے سہارے چلا جا
پہنچ ہی گیا ہوں میں آقا کے در پر
میری زندگی کے خسارے چلا جا
جرم چاہے جتنے ہوں بخشش کی خاطر
حبیبِ خدا کے دوارے چلا جا
محبؔوب باقی ہے جو زندگانی
درِ مصطفےٰ پہ گزارے چلا جا
محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
حالیہ پوسٹیں
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- الصُّبْحُ بدَا مِنْ طَلْعَتِہ
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- رشک کیوں نہ کروں انکی قسمت پہ میں
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- یا نبی نظری کرم فرمانا ، یا نبی نظر کرم فرمانا ،
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- در پیش ہو طیبہ کا سفر کیسا لگے گا
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- وَرَفَعنا لَکَ ذِکرَک
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- یہ دنیا اک سمندر ہے مگر ساحل مدینہ ہے
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی