محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
سبھی کام بگڑے سنوارے چلا جا
مجھے بھا گئے ہیں مدینے کے جلوے
ارے جنتوں کے نظارے چلا جا
لیا نام ان کا جو موجِ بلا میں
بھنور نے کہا جا کنارے چلا جا
مدینے میں بے خود ہوا جا رہا ہوں
اے صبرو ضبط کے سہارے چلا جا
پہنچ ہی گیا ہوں میں آقا کے در پر
میری زندگی کے خسارے چلا جا
جرم چاہے جتنے ہوں بخشش کی خاطر
حبیبِ خدا کے دوارے چلا جا
محبؔوب باقی ہے جو زندگانی
درِ مصطفےٰ پہ گزارے چلا جا
محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
حالیہ پوسٹیں
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- اے کہ ترے جلال سے ہل گئی بزمِ کافری
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- کس کی مجال ہے کہ وہ حق تیرا ادا کرے
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- الٰہی تیری چوکھٹ پر بھکاری بن کے آیا ہوں
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- غلام حشر میں جب سید الوریٰ کے چلے
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- نصیب آج اپنے جگائے گئے ہیں
- خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- رُبا عیات
- یوں تو سارے نبی محترم ہیں سرورِ انبیا تیری کیا بات ہے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- دل دیاں گلاں میں سناواں کس نوں
- مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں
- یہ کہتی تھی گھر گھر میں جا کر حلیمہ
- پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے