پنجابی نعت
میرے اتے کرم کما سوھنیا
مینوں وی تے در تے بلا سوھنیا
میرے لیکھاں وچ وی مدینہ لکھدے
تیری گل من دا خدا سوھنیا
تیری اُچی شان نالے سب نالوں وکھری
رب تیری چاہندا اے رضا سوھنیا
میں وی نعت پڑھاں تیرے در تے کھلو کے
پوری کر میری وی دعا سوھنیا
ہجر وچھوڑے مینوں رول سُٹیا
ہور کنی ملنی سزا سوھنیا
بابِ جبرئیل اُتے میں وی رج کے
لواں تیری دید دا مزا سوھنیا
بنا تیرے کون میرے معاف کریگا
لمے چوڑے جرم و خطا سوھنیا
کنی ٹھنڈی مٹھی تے مہک نال پُر
طیبہ وچ وگدی ہوا سوھنیا
جہدی چھانویں بہندے سارے نبی تے ولی
مینوں وی او گنبد وکھا سوھنیا
قدماں چ تیرےمیرے مُکن ایہہ ساہ
ایہو محبوؔب دی دعا سوھنیا
میرے اتے کرم کما سوھنیا
حالیہ پوسٹیں
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- اپنی نسبت سے میں کچھ نہیں ہوں، اس کرم کی بدولت بڑا ہوں
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے
- میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- میں تو خود ان کے در کا گدا ہوں
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- شمعِ دیں کی کیسے ہوسکتی ہے مدہم روشنی
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی