یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
گنبدِ خضریٰ کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں کو سلام
جو مدینے کے گلی کوچوں میں دیتے ہیں صدا
ان فقیروں ، راہگیروں ، ان گداؤں کو سلام
والہانہ جو طوافِ روضہِ اقدس کرے
مست و بے خود وَجد کرتی اُن ہواؤں کو سلام
مسجدِ نبوی کے صُبحوں اور شاموں کو سلام
یا نبی تیرے غلاموں کے غلاموں کو سلام
جو پڑھا کرتے ہیں روز و شب تیرے دربار میں
پیش کرتا ہے ظہوری ان سلاموں کو سلام .
یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
گنبدِ خضریٰ کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں کو سلام.
یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
گنبدِ خضریٰ کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں کو سلام
السلام سیّد و سردارِ ما!
السلام مالِک و مختارِ ما!
سیّد و سرور محمدﷺنُورِ جاں!
مہتر و بہتر شفیعِ مجرماں!
یا رسول الله تیرے در کی فضاؤں کو سلام
حالیہ پوسٹیں
- اینویں تے نیئیں دل دا قرار مُک چلیا
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے
- مدینے کا شاہ سب جہانوں کا مالک
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- اُجالی رات ہوگی اور میدانِ قُبا ہوگا
- سر محشر شفاعت کے طلب گاروں میں ہم بھی ہیں
- غم ہو گئے بے شمار آقا
- کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
- مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں