پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
دل جھوم اٹھا دل کو سرکار نظر آئے
یہ دل ہی بے صبرا ہے آرام نہیں لیتا
اِک بار نہیں مجھ کو سو بار نظر آئے
طیبہ کے نظاروں سے جب آنکھ ہوئی روشن
پھر عرشِ معلیٰ کے انوار نظر آئے
اِک مہک اٹھی دل کے ویران دریچوں سے
جب جلوہ نما دل میں ابرار نظر آئے
بخشش کے لیے میری وہ ہاتھ اٹھے جس دم
مجھے رحمتِ یزداں کے انبار نظر آئے
محبؔوب یہ دل اپنی تقدیر پہ نازاں ہے
اس عاصی کو دو جگ کے مختار نظر آئے
پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
حالیہ پوسٹیں
- دمِ آخر الہیٰ جلوۂِ سرکار ہو جائے
- کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آج
- یادِ سرکارِ طیبہ جو آئی
- سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- میں تو پنجتن کا غلام ہوں میں مرید خیرالانام ہوں
- جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
- گنج بخش فض عالم مظہرِ نور خدا
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیا
- دل خون کے آنسو روتا ہے اے چارہ گرو کچھ مدد کرو
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- رب کی بخشش مل جائیگی عاصیو اتنا کام کرو
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- دل پھر مچل رہا ہے انکی گلی میں جاؤں
- میرے مولا کرم ہو کرم
- حمدِ خدا میں کیا کروں
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- لَنْ تَرَانِیْ نصیبِ موسیٰ تھی