پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
اپنی آنکھوں میں مدینے کا پتہ لایاہوں
دل بھی میرا ہے وہیں جان بھی میری ہے وہیں
لاش کو اپنے میں کندھوں پے اٹھا لایاہوں
سایہء گنبد خضرامیں ادا کر کے نماز
سر کو میں عرش کا ہم پایہ بنا لایا ہوں
جس نے چومے ہیں قدم سرور دوعالم کے
خاک طیبہ کو میں پلکوں پے سجالایاہوں
جان و دل رکھ کے میں طیبہ میں امانت کی طرح
پھر وہاں جانے کے اسباب بنالایا ہوں
پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
حالیہ پوسٹیں
- طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- تم پر میں لاکھ جان سے قربان یا رسول
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- میں کس منہ سے مانگوں دعائے مدینہ
- سچ کہواں رب دا جہان بڑا سوھنا اے
- خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیا
- بس میرا ماہی صل علیٰ
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- کیوں کرہم اہلِ دل نہ ہوں دیوانۂ رسولؐ
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- بے اجازت اُس طرف نظریں اٹھا سکتا ہے کون
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- معراج کی شب سدرہ سے وریٰ تھا اللہ اور محبوبِ الہٰ
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- نازشِ کون ومکاں ہے سنتِ خیرالوری
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے