خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
ابھی چشمِ عالم نے دیکھا نہیں
دیارِ نبی کے نظارے نہ پوچھو
چھلک جائے میری نظر نہ کہیں
کسی اور جانب میں دیکھوں گا کیا
میری راہ تم میری منزل تمھی
کرم مجھ پہ آقا کا اتنا ہوا
کسی اور در پر نہ جھکی جبیں
کہاں کر سکا ہوں میں مدحت بیاں
جو باتیں تھی دل میں وہ دل میں رہیں
خدا کی قسم آپ جیسا حسیں
حالیہ پوسٹیں
- کیونکر نہ میرے دل میں ہو الفت رسول کی
- سیف الملوک
- جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہم
- اج سک متراں دی ودھیری اے
- اول حمد ثناء الہی جو مالک ہر ہر دا
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- مئے حُبِّ نبی سے جس کا دل سرشار ہو جائے
- زہے عزت و اعتلائے محمد
- ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
- محؐمد محؐمد پکارے چلا جا