کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں پہ صدقے
- مثلِ شبّیر کوئی حق کا پرستار تو ہو
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- مرا پیمبر عظیم تر ہے
- دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا
- طیبہ والا جدوں دا دیار چھٹیا
- خندہ پیشانی سے ہر صدمہ اُٹھاتے ہیں حسین
- یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
- نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں
- اے رسولِ امیںؐ ، خاتم المرسلیںؐ
- تڑپ رہاں ہوں میں کب سے یا رب
- لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے
- جس نے مدینے جانڑاں کر لو تیاریاں
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
- ذاتِ والا پہ بار بار درود