کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں
یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں
اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں
جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں
طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
حالیہ پوسٹیں
- فضلِ رَبّْ العْلیٰ اور کیا چاہیے
- جو گزریاں طیبہ نگری وچ او گھڑیاں مینوں بھلدیاں نئیں
- یہ کس نے پکارا محمد محمد بڑا لطف آیا سویرے سویرے
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
- ہر دم تیری باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
- امام المرسلیں آئے
- سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
- فلک کے نظارو زمیں کی بہارو سب عیدیں مناؤ حضور آ گئے ہیں
- حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجئے
- تم بات کرو ہونہ ملاقات کرو ہو
- کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے
- نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
- کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر اللہ اکبر
- مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
- مجھے بھی مدینے بلا میرے مولا کرم کی تجلی دکھا میرے مولا