اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبیﷺ کر دیا
میں سجاتا تھا سرکار کی محفلیں مجھ کو ہر غم سے رب نے بری کر دیا
ذکر سرکار کی ہیں بڑی برکتیں مل گئیں راحتیں عظمتیں رفعتیں
میں گنگار تھا بے عمل تھا مگر مصطفیﷺ نے مجھے جنتی کر دیا
لمحہ لمحہ ہے مجھ پر نبیﷺ کی عطا دوستو اور مانگوں میں مولا سے کیا
کیا یہ کم ہے کہ میرے خدا نے مجھے اپنے محبوب کا امتی کردیا
جو بھی آیا ہے محفل میں سرکار کی حاضری مل گئی جس کو دربار کی
کوئی صدیق فاروق عثمان ہوا اور کسی کو نبیﷺ نے علی کر دیا
جو در مصطفی کے گدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گئے
ایسی چشم کرم کی ہے سرکار نے دونوں عالم میں ان کو غنی کردیا
کوئی مایوس لوٹا نہ دربار سے جو بھی مانگا ملا میری سرکار سے
صدقے جاوں نیازی میں لج پال کے ہر گدا کو سخی نے سخی کر دیا
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبیﷺ کر دیا
میں سجاتا تھا سرکار کی محفلیں مجھ کو ہر غم سے رب نے بری کر دیا
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی کر دیا
حالیہ پوسٹیں
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
- ہم مدینے سے اللہ کیوں آگئے
- وجہِ تخلیقِ دو عالم، عالم آرا ہو گیا
- شجرہ نصب نبی اکرم محمد صلی اللہ وسلم
- لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
- یہ نہ پوچھو ملا ہمیں درِ خیرالورٰی سے کیا
- نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ
- وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- رُخ دن ہے یا مہرِ سما ، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا
- احمد کہُوں ک ہحامدِ یکتا کہُوں تجھے
- کرم کی ادھر بھی نگاہ کملی والے
- بھر دو جھولی میری یا محمد
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
- کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درود