تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- ساہ مُک چلے آقا آس نہ مُکی اے
- تیرا کھاواں میں تیرے گیت گاواں یارسول اللہ
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دم
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
- عاصیوں کو در تمھارا مل گیا
- آئینہ بھی آئینے میں منظر بھی اُسی کا
- تیری جالیوں کے نیچے تیری رحمتوں کے سائے
- وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیں
- ذکرِ احمد میں گزری جو راتیں حال انکا بتایا نہ جائے
- یہ سینہ اور یہ دل دوسرا معلوم ہوتا ہے
- دل ٹھکانہ میرے حضور کا ہے
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے