تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- دل میں بس گئے یارو طیبہ کے نظارے ہیں
- دلوں کی ہے تسکیں دیارِ مدینہ
- آکھیں سونہڑے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہو وے
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- تُو کجا من کجا
- مرحبا عزت و کمالِ حضور
- خدا کے قرب میں جانا حضور جانتے ہیں
- دلوں میں اجالا تیرے نام سے ہے
- ذاتِ والا پہ بار بار درود
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال
- پھر دل میں بہاراں کے آثار نظر آئے
- جا زندگی مدینے سے جھونکے ہوا کے لا
- جاں بلب ہوں آ مری جاں الغیاث
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن