تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- یہ چاند ستارے بھی دیتے ہیں خراج اُن کو
- عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
- تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
- طیبہ سارے جگ توں جدا سوھنیا
- کہتے ہیں عدی بن مسافر
- تسکینِ دل و جاں ہیں طیبہ کے نظارے بھی
- بڑی اُمید ہے سرکاؐر قدموں میں بلائیں گے
- کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
- شبنم میں شراروں میں گلشن کی بہاروں میں
- خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- ہم تمہارے ہوکے کس کے پاس جائیں
- پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی سے
- عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
- میں بھی روزے رکھوں گا یا اللہ توفیق دے
- تُو کجا من کجا
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی