تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاب
- جس کو کہتے ہیں قیامت حشر جس کا نام ہے
- میں کہاں پہنچ گیا ہوں تیرا نام جپتے جپتے
- ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
- تیری رحمتوں کا دریا سر عام چل رہا ہے
- ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم
- اک خواب سناواں
- کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو
- ہے کلام ِ الٰہی میں شمس و ضحٰے
- عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیں
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- میں کہاں اور تیری حمد کا مفہوم کہاں
- تصور میں منظر عجیب آ رہا ہے
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط