تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
نہ کچھ اور اسکے سِوا مانگتے ہیں
اندھیروں میں ڈوبی ہوئی زندگی ہے
اے نورِ مجسم ضیاء مانگتے ہیں
حشر میں جہاں کوئی پُرساں نہ ہو گا
تیرے نام کا آسرا مانگتے ہیں
چھُٹے نہ کہیں کملی والے کا دامن
خدا سے یہی اِک دعا مانگتے ہیں
اگر جیتے جی پہنچ جائیں مدینے
تو واپس نہ آئیں قضا مانگتے ہیں
تیری دید بن اور جینا ہے مشکل
تیرے پاس رہنا سدا مانگتے ہیں
تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
حالیہ پوسٹیں
- خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
- رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے
- مجھ کو طیبہ میں بلا لو شاہ زمنی
- بڑی مشکل یہ ہے جب لب پہ تیرا ذکر آتا ہے
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- خاک سورج سے اندھیروں کا ازالہ ہوگا
- ہم درِ مصطفےٰ دیکھتے رہ گئے
- یقیناً منبعِ خوفِ خدا صِدِّیقِ اکبر ہیں
- ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہمارا
- پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم
- مجھ پہ بھی میرے آقا گر تیرا کرم ہووے
- چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر
- صانع نے اِک باغ لگایا
- وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
- طیبہ دیاں گلاں صبح و شام کریے
- ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے
- گل ا ز رخت آمو ختہ نازک بدنی را بدنی را
- کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر، کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
- خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغ
- خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفی جانیں