حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کیوں کسی کے در پہ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
میں غلام مصطفی ہوں یہ مری پہچان ہے
غم مجھے کیوں کر ستائیں آپ کے ہوتے ہوئے
شانِ محبوبی دکھائی جائے گی محشر کے دن
کون دیکھے گا خطائیں آپ کے ہوتے ہوئے
زلفِ محبوب خدا لہرائے گی محشر کے دن
خوب یہ کس کی گھٹائیں آپ کے ہوتے ہوئے
میں یہ کیسے مان جاؤں شام کے بازار میں
چھین لے کوئی ردائیں آپ کے ہوتے ہوئے
اپنا جینا اپنا مرنا اب اسی چوکھٹ پہ ہے
ہم کہاں سرکار جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کہہ رہا ہے آپ کا رب “اَنتَ فِیھِم” آپ سے
میں انہیں دوں کیوں سزائیں آپ کے ہوتے ہوئے
یہ تو ہو سکتا نہیں ہے یہ بات ممکن ہی نہیں
میرے گھر میں غم آ جائیں آپ کے ہوتے ہوئے
کون ہے الطاف اپنا حال دل کس سے کہیں
زخم دل کس کو دکھائیں آپ کے ہوتے ہوئے
حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
حالیہ پوسٹیں
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- ساقیا کیوں آج رِندوں پر ہے تو نا مہرباں
- بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر
- مدینے کی جانب یہ عاصی چلا ہے
- کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گا
- کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیں
- ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
- اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں
- دل رہ گیا ہے احمدِ مختار کی گلی میں
- ایمان ہے قال مصطفائی
- زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
- دل و نگاہ کی دنیا نئی نئی ہوئی ہے
- حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
- عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن
- نعت سرکاؐر کی پڑھتاہوں میں
- طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے
- لو آگئے میداں میں وفادارِ صحابہ