حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
مجھے اپنی رحمت سے تو اپنا کر دے سوا تیرے سب سے کنارہ کروں میں
میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں تیرے در سے اپنا گزارہ کروں میں
تیرے نام پر سر کو قربان کر کے تیرے سر سے صدقہ اتارا کروں میں
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں
دم واپسی تک تیرے گیت گاؤں محمدﷺ محمد ﷺپکارا کروں میں
میرا دین وایماں فرشتے جو پوچھیں تمھاری ہی جانب اشارہ کروں میں
خدا ایسی قوت دے میرے قلم میں کہ بد مذہبوں کو سدھارا کروں میں
خدا خیر سے لائے وہ دن بھی نوریؔ مدینے کی گلیاں بہارا کروں میں
حبیب خدا کا نظارہ کروں میں دل و جان ان پر نثارا کروں میں
حالیہ پوسٹیں
- حالِ دل کس کو سنائیں آپ کے ہوتے ہوئے
- کرے مدحِ شہِ والا، کہاں انساں میں طاقت ہے
- اﷲ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا
- تیرے در سے تیری عطا مانگتے ہیں
- جب درِ مصطفےٰ کا نطارا ہو
- نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
- لم یات نطیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
- جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
- عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیا
- خدا تو نہیں با خدا مانتے ہیں
- چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربط
- رب کولوں اساں غم خوار منگیا
- اب میری نگاہوں میں جچتا نہیں کوئی
- دونوں جہاں کا حسن مدینے کی دُھول ہے
- اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
- مصطفیٰ جان ِ رحمت پہ لاکھوں سلام
- مجھ پہ چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
- خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظ
- منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
- رحمتِ حق ہے جلوہ فگن طیبہ کے بازاروں میں